متاثرین برسات میں ہلال احمرکی طرف سےامدادکی تقسیم
ہلال ِاحمرکا کام لائق تحسین ہے، ہمت افزائی کریں گے، گورنرسندھ عمتران اسماعیل
تقریب میں چیئرمین ہلال احمر ابرارالحق اورچئیرپرسن ہلال احمر سندھ برانچ شہناز حامد کی شرکت




کراچی: ہلالِ احمر پاکستان نے کراچی میں بارشوں سے متاثرہ 550 گھرانوں میں فوڈ پارسل، واٹر فلٹرز، ترپالیں، جیری کین، بالٹیاں اور کچن میں استعمال ہونے والے برتن وغیرہ تقسیم کیے۔ یہ تقسیم اورنگی ٹاون میں کی گئی۔ تقریب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، چیئرمین ہلالِ احمر پاکستان ابرار الحق، چیئرپرسن سندھ برانچ محترمہ شہناز حامدصاحبہ نے شرکت کی۔
اِس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ہلال ِاحمر کا کام بہت لائق تحسین ہے، اِس امدادی کام کو آگے بڑھایا جائے گا۔ رضاکاروں کا کام وہ کام ہے جو اللہ اپنے پسندیدہ لوگوں سے لیتا ہے۔ یہ کام کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں، میں اپنی طرف سے اور عوام کی جانب سے ہلالِ احمر کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں ہلالِ احمر کے اقدامات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔اس سے قبل امدادی سامان کی فراہمی سے متعلق چیئرمین ہلالِ احمر پاکستان جناب ابرار الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں نے 90 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ ایسی ہی سنگین صورتحال بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی ہے۔ ہلا لِ احمر ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی متاثرین بارش و سیلاب کی بھرپور مدد و تعاون کیلئے صفِ اوّل میں کھڑا ہے۔ ہمارے رضاکار اور تربیتیافتہ ریسپانس ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں مصروفِ کار ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کی شاخیں متحرک ہیں اور متاثرہ گھرانوں کی مدد کررہی ہیں۔ ابرار الحق نے کہا کہ ہلالِ احمر نے سندھ اور خیبرپختونخوا کے مزید 6500 گھرانوں تک امداد پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِن گھرانوں کو نقد مالی مدد کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاءضروریہ بھی مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہلال ِاحمر دادو، جھل مگسی اور جعفرآباد میں 2500 متاثرہ گھرانوں میں فی کس 10,500 روپے نقد بھی تقسیم کرے گا اور 10 ہزار ہائی جین کِٹس بھی مہیا کی جائیں گی۔انہوں نے کہا دادو اور جھل مگسی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کردیئے گئے ہیں۔ اِن پلانٹس سے مجموعی طور پر 60 ہزار لٹر پینے کا صاف پانی روزانہ کے حساب سے مہیا کیا جائے گا۔اِس سے قبل اورنگی ٹاون میں امدادی اشیاءکی تقسیم کے موقع پر سندھ برانچ کی چیئرپرسن شہناز ایس حامد کا کہنا تھا کہ ہلالِ احمر متاثرہ گھرانوں کے ساتھ ہے۔ہمارے رضاکاروں نے 500 سے زائد افراد کو سیلابی پانی سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا۔اِن افراد میں بچے اور ضعیف العمر لوگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ 100 سے زائد زخمی ہو جانے والوں کو ابتدائی طبّی امداد بھی فراہم کی۔ شہناز ایس حامد نے کہا کہ بلدیہ ٹاون میں اپنے گھر والوں سے بچھڑ جانے والے بچے کو بھی اُس کے خاندان سے ملایا اور ایک ضعیف العمر عورت کو ڈوبنے سے بچایا۔ ہمارے رضاکاروں نے قابلِ ستائش امدادی کام کیے۔ہم نے جرمن ریڈکراس کے تعاون سے 800 فوڈ پارسل بھی تقسیم کیے۔ سندھ برانچ نے متاثرہ گھرانوں کیلئے امدادی اشیاءاور ہائیجین کِٹس ضلعی برانچوں کے حوالے کردی ہیں۔ اِس موقع پر صوبائی سیکرٹری ہلالِ احمر جناب کنور وسیم کا کہنا تھا کہ ہلالِ احمر نے سیلاب اور بارش کے متاثرین کی مدد کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ہمارا ہر ایک رضاکار اور کارکن متاثرہ، کمزور اور مستحق کی مدد و تعاون کیلئے کسی بھی قدرتی آفت یاایمرجنسی میں ہمہ وقت موجود ہے۔
Comments
Post a Comment