عوام کو آگ سے تحفظ دینے کی اہمیت پرسیمینار
پاکستان میں سینکڑوں افرادآتشزدگی کا شکارہوجاتے ہیں، پروفیسرفرحان عیسیٰ
حفاظتی اقدامات کی آگہی سے جانی اور مالی انقصان کے ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے

بجلی کے شارٹ سرکٹ ،گاڑیوں میں گیس سیلنڈر پھٹنے ،کچن میں کھانا پکاتے ہوئے کپڑوں میں آگ لگ جانے کے علاوہ ڈومیسٹک وائیلینس کی وجہ سے جھلس جانے میںخواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے
کراچی: پاکستان میں ہر سال سینکڑوں افراد آتشزدگی کا شکا ر ہو جاتے ہیں یہ بات روٹری کلب انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 3271 کی جانب سے عوام کو آگ سے تحفظ دینے کی اہمیت پر منعقدہ سیمینار کے موقع پر مہمان خصوصی روٹری انٹرنیشنل کے ڈسٹرک گورنر 3271پروفیسر ڈاکٹرفرحان عیسیٰ نے کہی اس موقع پر پبلک سیفٹی کی چیئرپرسن سمن لئیق عباسی،سابق صدر ایمپائرز فیڈریشن آف پاکستان کے سی سی آئی ماجد عزیز،میڈیا اینکر ڈاکٹر ہما بقائی،انٹرنیشنل سیفٹی ٹرینراختر قدوس ،جوائنٹ کوآر ڈینیٹر روٹرین صبا شیخ،ڈسٹرکٹ روٹری کو آرڈینیٹر چوہدری فہد سکندر اور جوائنٹ کو آر ڈینیٹر روٹرین عمائمہ اقبال بھی موجود تھے پروفیسر ڈاکٹرفرحان عیسیٰ نے کہا کہ بجلی کے شارٹ سرکٹ ،گاڑیوں میں گیس سیلنڈر پھٹنے ،کچن میں کھانا پکاتے ہوئے کپڑوں میں آگ لگ جانے کے علاوہ ڈومیسٹک وائیلینس کی وجہ سے جھلس جانے میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے انہوںنے کہاکہ دنیا بھر میں آتشزدگی کے واقعات کی وجہ سے ایک لاکھ 80ہزار سے زائد افراد جھلس کر ہلاک ہو جاتے ہیں پاکستان میں آتشزدگی سے متاثرہ افراد کے علاج کے لئے ہسپتال نا کافی ہیں جبکہ موجودہ ہسپتالوں کے برنس وارڈ میں علاج کی جدید سہولیات کا بھی فقدان ہے پروفیسر ڈاکٹرفرحان عیسیٰ نے کہا کہ کراچی میں صرف ایک برنس وارڈ سول ہسپتال کی ایک قدیم عمارت میں قائم ہے جہاں نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ سے بھی آگ سے جھلسنے والے افراد کو علاج کے لئے لایا جاتا ہے انہوںنے کہا کہ حکومت اور دیگر سماجی تنظیمیں بزنس وارڈ ہسپتال کو زیادہ سے زیادہ ادویات اور دیگر آلات وغیرہ فراہم کرنے میں مدد کریں پروفیسر ڈاکٹرفرحان عیسیٰ نے کہا کہڈبلیو ایچ او کی جانب سے آگ سے جھلسنے والے افراد کے لئے جاری کردہ احتیاطی تدابیر کے مطابق اگر کوئی شخص جھلس رہا ہوتو اس پر فوری طور پر پانی ڈال دیںجبکہ کیمیکل سے آگ لگنے کی صورت میں اس متاثرہ شخص پر اتناٹھنڈا پانی ڈالا جائے کہ اس کے جسم سے خطر ناک کیمیکل الگ ہو جائے اور فوراََ اسے کسی بھی قریبی ہسپتال لے جایا جائے تا کہ اس کو جلد سے جلد طبی امداد ملنے کے ساتھ اس کا علاج شروع کیا جا سکے انہوںنے کہا کہ گھروں، دفاتر،شاپنگ مال، تعلیمی اداروں ، بلند و بالا ہائشی عمارتوں میںنہ صرف ایمر جنسی ایگزیٹ کے ہونے کے علاوہ آگ بجھانے والے آلات اور ان کے استعمال سے متعلق آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے پروفیسر ڈاکٹرفرحان عیسیٰ نے کہا کہ تمام عمارتوں میں ایمر جنسی ایگزیٹ ہونے چاہئے تا کہ آگ لگ جانے کی صور ت میںوہاں سے فوری طو ر پر نکلنا آسان ہو انہوںنے کہاکہ بچوں کے اسکولز کی درسی کتب میں بھی فرسٹ ایڈ اور آتشزدگی میں فوری طبی امداد سے متعلق سبق شامل کرنا چاہئے اور وقتاََ فوقتاََبلند و بالا عمارتوں میں آگ سے بچاﺅکی مشق کرائی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو آگ سے بچاﺅ کی آگاہی حاصل ہواور وہ خود کو آگ سے بچا سکیںاورآتشزدگی سے ہونے والے واقعات پر قابو پایا جا سکے
Comments
Post a Comment