پاکستان میں ٹک ٹاک پرپابندی
صارفین حالت غم میں
ٹک ٹاک پرغیراخلاقی مواد کے باعث کارروائی کی،اعلامیہ
ٹک ٹاک انتظامیہ سے مذاکرات کیلے تیار ہیں، پی ٹی اے
پی ٹی اے کی جانب سے پابندی کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
ٹک ٹاک انتظامیہ سے مذاکرات کیلے تیار ہیں، پی ٹی اے
پی ٹی اے کی جانب سے پابندی کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
پاکستانی حکام نے مختصر دورانیے کی ویڈیوز کی ایپ ٹک ٹاک پر'غیر اخلاقی مواد' کی شکایات موصول ہونے کے باعث پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان میں مواصلات کے ریگولیٹری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ طور پر اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

ادارے نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 'معاشرے کے مختلف طبقات' کی جانب سے اس ایپ پر موجود مواد کے خلاف شکایات کی گئی تھیں۔
پاکستان میں 2 کروڑ افراد ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں


ٹک ٹاک اسٹار آگ بگولہ ہوگئے، حکومت پرکڑی تنقید
پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے، لوگ کہیں اور جا کر یہی کام کریں گے، حریم شاہ
جو لوگ غلط ویڈیو ڈال رہے تھے ان پر پابندی ہونی چاہیے تھے سب پر نہیں
ٹک ٹاک کی جانب سے اس پابندی پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق ادارے کی جانب سے ٹک ٹاک پر شائع کیے جانے والے مواد اور اس حوالے سے شکایات کی نوعیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایپلیکیشن کو حتمی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
ادارے نے مؤقف اپنایا ہے کہ اس نے ٹک ٹاک کو جواب دینے اور 'غیر قانونی آن لائن مواد' کو متحرک انداز میں روکنے کے لیے 'ایک مؤثر طریقہ کار' وضع کرنے کی خاطر کافی وقت دیا تھا، تاہم یہ ایپ ان ہدایات پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کر سکی۔چنانچہ حکام کے مطابق ملک میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کو بتا دیا گیا ہے کہ پی ٹی اے مذاکرات اور اپنے فیصلے پر نظرِثانی کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس کے لیے ٹک ٹاک کو غیر قانونی مواد کے خلاف ایک اطمینان بخش طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ افراد ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے رواں سال 20 جولائی کو بیگو پر بھی 'غیر اخلاقی، فحش، اور غیر مہذب' مواد کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک کو بھی حتمی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
پابندی زیادتی ہے، ہمارا کیا قصور ہے، الیشبا مرزا
سر خدا کا خوف کریںہمارے مستقبل کا سوال ہے، ٹک ٹاک اسٹار کا ٹوئیٹ

رواں سال اگست میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس کے ساتھ کسی قسم کی لین دین پر پابندی ہوگی۔
اس حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے پیشِ نظر ٹک ٹاک کے مالکان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا ہوگی۔
ٹک ٹاک ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے ڈیٹا پر چینی حکومت کا کنٹرول ہے یا اس تک چینی حکومت کو رسائی حاصل ہے۔
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اس نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تقریباً ایک سال تک مذاکرات کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں اپنایا گیا اور ان کا سامنا ایک ایسی انتظامیہ سے ہوا جو 'حقائق کو چنداں توجہ' نہیں دیتی۔

اس کے علاوہ جولائی میں انڈین حکومت نے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔
چین کے ساتھ لداخ کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران انڈین حکومت نے اس فیصلے کو ایمرجنسی حل اور قومی سلامتی کے لیے ضروری قدم بتایا ہے۔
انڈیا کے وزیر اطلاعات اور نشریات روی شنکر پرساد نے اس وقت اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'یہ پابندی سکیورٹی، خود مختاری اور سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ہم انڈین شہریوں کے ڈیٹا اور پرائیویسی میں کسی طرح کی جاسوسی نہیں چاہتے ہیں۔'
Comments
Post a Comment